13 جمادی الاولیٰ 1448 ہجری24 October 2026
DeenCalc

← بلاگ

تنخواہ اور بچت کی زکاۃ: اصل میں شمار کیا ہوتا ہے

تنخواہ آتے ہی اس پر زکاۃ نہیں — زکاۃ اس بچت پر ہے جو آپ کی زکاۃ کی تاریخ پر موجود ہو۔ اندر حسابی مثال موجود ہے۔

کیا تنخواہ پر بذاتِ خود زکاۃ ہے؟

نہیں — نہ آتے ہی، نہ مہینہ بہ مہینہ۔ زکاۃ کے حساب میں آپ کی تنخواہ آمدن ہے، اور زکاۃ آمدن پر نہیں لگتی۔ جو تنخواہ سال بھر کرائے، کھانے اور گھر کی ضرورتوں میں خرچ ہو گئی، وہ گئی؛ وہ اس حساب کا حصہ تھی ہی نہیں۔ زکاۃ اس مال کو دیکھتی ہے جو اب بھی آپ کے پاس موجود ہو۔

یہی وجہ ہے کہ ایک جیسی تنخواہ والے دو لوگوں کی زکاۃ الگ الگ ہو سکتی ہے: جس نے بچایا، اس پر بچت کی زکاۃ ہے؛ جس کی تنخواہ پوری ضرورتوں میں خرچ ہو جاتی ہے، اس کے پاس قابلِ زکاۃ کچھ ہو ہی نہ ہو۔

پھر شمار اصل میں ہوتا کیا ہے؟

اپنی زکاۃ کی تاریخ پر — سال کا وہ ایک مقررہ دن جو آپ نے حساب کے لیے رکھا ہے — اپنے پاس موجود رقم گنیں: گھر کی نقدی، کرنٹ اور سیونگ کھاتوں کے بیلنس، ڈپازٹ اور بچت سرٹیفکیٹ ان کی موجودہ قیمت پر، اور موبائل والیٹ کی رقوم۔ سونا، چاندی یا کاروباری مال بھی ہو تو وہ بھی شامل ہے (مرکزی زکاۃ کیلکولیٹر سب کچھ اکٹھا گنتا ہے)۔ پھر واجب الادا قرضے اور بل منہا کریں۔

وہ خالص رقم نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو — دار الافتاء کے رمضان 1447 ہجری / 2026ء کے اعلان پر 5,04,105 روپے — اور اس سطح کے مال پر قمری سال گزر چکا ہو، تو زکاۃ پوری خالص رقم کا اڑھائی فیصد ہے، صرف نصاب سے اوپر والے حصے کا نہیں۔

نقدی اور بچت کی زکاۃ کا کیلکولیٹر کھولیں

ماہانہ تنخواہ کی حسابی مثال

فرض کریں آپ ہر مہینے تنخواہ کا کچھ حصہ بچاتے ہیں، اور آپ کی زکاۃ کی تاریخ یعنی یکم رمضان پر آپ کے کھاتوں اور نقدی میں ملا کر 8,50,000 روپے کی بچت موجود ہے۔ واجب الادا بل اور قرض کی قسط 50,000 روپے ہے۔ خالص: 8,50,000 − 50,000 = 8,00,000 روپے۔ یہ نصاب 5,04,105 روپے سے زیادہ ہے، اس لیے زکاۃ 8,00,000 کا اڑھائی فیصد = 20,000 روپے بنتی ہے۔

اپنے اعداد نقدی اور بچت کی زکاۃ کے کیلکولیٹر میں چلا کر دیکھیں — وہ بالکل یہی سطریں پوچھتا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اگر خالص رقم نصاب سے کم نکلتی تو جواب صاف ہوتا: اس سال زکاۃ نہیں، تنخواہ جتنی بھی ہو۔

ایک سادہ سالانہ معمول

ایک تاریخ مقرر کر کے اسے قائم رکھیں — اکثر لوگ رمضان کا کوئی دن رکھتے ہیں۔ اس دن: ہر کھاتہ اور ہر نقد رقم لکھیں، سونا چاندی ہو تو اس دن کی قیمت لگائیں، اپنے ذمے رقوم منہا کریں، نصاب سے مقابلہ کریں، اور اوپر ہوں تو اڑھائی فیصد نکال لیں۔ سال میں ایک بار دس منٹ، اور تنخواہ والا سوال خود ہی حل ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ معمول کبھی نہیں پوچھتا کہ آپ نے کمایا کتنا — صرف یہ کہ آپ کے پاس موجود کتنا ہے۔

یہ حساب کی رہنمائی ہے، فتویٰ نہیں۔ ایسا پراویڈنٹ فنڈ جسے آپ چھو ہی نہ سکیں، شراکت کا حصہ، یا متنازعہ قرض اصل صورت کو بدل سکتا ہے — عام تنخواہ اور بچت سے آگے کی صورتوں میں کسی عدد پر عمل سے پہلے مفتی سے رجوع کریں۔

مزید پڑھیں

ذرائع اور شرعی بنیاد

اس صفحے کے تمام حسابات فقہِ حنفی کے مطابق ہیں۔ نرخ اور نصاب دار الافتاء (منہاج القرآن) کے رمضان 1447 ہجری / 2026ء کے اعلان برائے پاکستان سے لیے گئے ہیں؛ قیمتیں بدلتی رہتی ہیں، اس لیے ہر رقم کا خانہ آپ خود تبدیل کر سکتے ہیں۔

یہ صرف حساب کی رہنمائی ہے، فتویٰ نہیں۔ حتمی تصدیق کے لیے مفتی یا دار الافتاء سے رجوع کریں۔ تفصیل کے لیے ہمارا طریقۂ کار اور ذرائع دیکھیں۔