DeenCalc

← بلاگ

صدقۂ فطر (فطرانہ): کس پر واجب ہے، کب دیں اور مقدار کتنی ہے

فقہ حنفی کے مطابق فطرانے کی مکمل رہنمائی: کس پر واجب ہے، عید کی حد، اور رمضان 1447 میں فی کس مقدار۔

صدقۂ فطر کیا ہے؟

صدقۂ فطر — جسے پاکستان میں فطرانہ کہا جاتا ہے — وہ صدقہ ہے جو ہر صاحبِ استطاعت مسلمان رمضان کے اختتام پر عید کی نماز سے پہلے ادا کرتا ہے۔ یہ روزے کو لغو اور بے ہودہ باتوں سے پاک کرتا ہے، اور عید کے دن غریبوں کے دسترخوان تک کھانا پہنچاتا ہے تاکہ اس دن کوئی سوال کرنے پر مجبور نہ ہو جب سب خوشیاں منا رہے ہوں۔

یہ زکاۃ سے الگ چیز ہے۔ زکاۃ محفوظ مال کا اڑھائی فیصد سال میں ایک بار ہوتی ہے، جب کہ فطرانہ فی کس ایک مقرر مقدار ہے جو بنیادی خوراک سے جڑی ہے۔ بہت سے لوگ جن پر زکاۃ فرض نہیں، ان پر بھی فطرانہ واجب ہوتا ہے، کیونکہ اس کی بنیاد سال بھر کی بچت نہیں بلکہ روزمرہ ضرورت سے زائد مال ہے۔

فطرانہ کس پر واجب ہے؟

فقہ حنفی میں فطرانہ ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو عید کی صبح نصاب کے برابر مال کا مالک ہو، یا اس کی بنیادی ضرورتوں سے زائد سامان اسی قدر مالیت کا ہو — چاہے اس مال پر سال نہ گزرا ہو اور وہ مالِ تجارت بھی نہ ہو۔ اسی لیے فطرانہ دینے والوں کی تعداد زکاۃ دینے والوں سے زیادہ ہوتی ہے۔

ہر شخص اپنا اور اپنے نابالغ بچوں کا فطرانہ ادا کرتا ہے۔ حنفی مسلک میں باپ اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے اپنے مال سے دیتا ہے؛ بالغ اولاد اور بیوی کا فطرانہ ان کا اپنا ہے، البتہ گھرانے عموماً اکٹھے ادا کر دیتے ہیں — اصل مقصد یہ ہے کہ ہر فرد کا فطرانہ عید سے پہلے مستحقین تک پہنچ جائے۔

فطرانہ و فدیہ کیلکولیٹر کھولیں

فی کس فطرانہ کتنا ہے؟

اس کی بنیاد خوراک ہے۔ فقہ حنفی کے مطابق گندم نصف صاع دی جاتی ہے، جب کہ جو، کھجور، کشمش اور اسی طرح کی اجناس پورا ایک صاع دی جاتی ہیں۔ دار الافتاء (منہاج القرآن) نے رمضان 1447 ہجری / 2026ء کے لیے پاکستان کے اپنے اعلان میں گندم کے آٹے کے نصف صاع کو 2 کلو اور باقی اجناس کے پورے صاع کو 4 کلو مقرر کر کے قیمتیں یوں شائع کی ہیں: گندم کا آٹا 310 روپے، جو 1,180 روپے، درمیانی کھجور 2,400 روپے، کشمش 4,800 روپے، پنیر 8,000 روپے اور اعلیٰ درجے کی کھجور 20,000 روپے فی کس۔

جنس کا انتخاب اپنے معیارِ زندگی کے مطابق کریں: جو گھرانہ اچھا کھاتا پیتا ہے اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اونچی سطح سے دے، کم سے کم پر اکتفا نہ کرے۔ سال کے دوران قیمتیں بدلتی رہتی ہیں، اس لیے اگر اعلان کے بعد بازاری قیمت بدل گئی ہو تو اسی وزن کی موجودہ قیمت استعمال کریں — ہمارے فطرانہ کیلکولیٹر میں افراد کی تعداد سے ضرب دینے سے پہلے ہر نرخ خود تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

فطرانہ کب ادا کرنا چاہیے؟

اس کی ادائیگی عید الفطر کے دن فجر سے واجب ہوتی ہے اور یہ مستحقین تک عید کی نماز سے پہلے پہنچنا چاہیے — یہی وقت اس کا اصل مقصد ہے تاکہ غریب بھی عید کے دن کی خوشی میں شریک ہو۔ رمضان کے آخری دنوں میں دینا بھی جائز ہے اور اکثر گھرانے یہی کرتے ہیں تاکہ رقم وقت پر تقسیم ہو سکے۔

اگر عید گزر جائے اور ادائیگی رہ جائے تو یہ ذمے سے ختم نہیں ہوتی: فطرانہ بدستور واجب رہتا ہے اور جس قدر جلد ہو ادا کر دینا چاہیے، البتہ تاخیر سے وقت پر دینے کا خاص اجر نہیں ملتا۔

فطرانہ کس کو دیا جا سکتا ہے؟

فطرانہ انہی لوگوں کو دیا جاتا ہے جو زکاۃ کے مستحق ہیں: یعنی وہ فقیر و مسکین جو خود نصاب کے مالک نہ ہوں۔ یہ اپنے والدین، دادا دادی، اولاد اور پوتوں پوتیوں کو، اور میاں بیوی کو ایک دوسرے کو نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے علاوہ غریب رشتہ داروں کو دینا جائز ہے اور اس میں دوہرا اجر ہے — صدقہ بھی اور صلہ رحمی بھی۔

اپنے گھرانے کی کل رقم فطرانہ و فدیہ کیلکولیٹر سے معلوم کریں، اور اگر گھر میں کوئی روزہ رکھ ہی نہیں سکتا تو فدیے کا فرق بھی پڑھ لیں۔

مزید پڑھیں

ذرائع اور شرعی بنیاد

اس صفحے کے تمام حسابات فقہِ حنفی کے مطابق ہیں۔ نرخ اور نصاب دار الافتاء (منہاج القرآن) کے رمضان 1447 ہجری / 2026ء کے اعلان برائے پاکستان سے لیے گئے ہیں؛ قیمتیں بدلتی رہتی ہیں، اس لیے ہر رقم کا خانہ آپ خود تبدیل کر سکتے ہیں۔

یہ صرف حساب کی رہنمائی ہے، فتویٰ نہیں۔ حتمی تصدیق کے لیے مفتی یا دار الافتاء سے رجوع کریں۔ تفصیل کے لیے ہمارا طریقۂ کار اور ذرائع دیکھیں۔