DeenCalc

فطرانہ و فدیہ کیلکولیٹر

اپنے گھرانے کا صدقۂ فطر نکالیں، یا چھوٹے ہوئے روزوں کا فدیہ گنیں۔ ہر جنس کے سامنے اس کا شرعی پیمانہ (نصف صاع 2 کلو، پورا صاع 4 کلو) اور دار الافتاء کا فی کس نرخ درج ہے — اور ہر نرخ قابلِ تبدیلی ہے۔

شرعی پیمانہ: نصف صاع = 2 kg

کل فطرانہ

Rs 1,550

Rs 310 فی کس × 5 افراد

ماخذ: دار الافتاء (منہاج القرآن)، رمضان 1447 ہجری / 2026ء — پاکستان کے لیے نرخ

حساب کیسے لگتا ہے؟

فطرانہ = فی کس رقم × افراد کی تعداد۔ فدیہ = فی دن رقم × چھوٹے ہوئے روزوں کی تعداد، جہاں فی دن رقم ایک شخص کے فطرانے کے برابر ہوتی ہے۔ مثال: گندم کے نرخ 310 روپے پر پانچ افراد کا فطرانہ 310 × 5 = 1,550 روپے، اور تیس دن کا فدیہ 310 × 30 = 9,300 روپے بنتا ہے۔

کس پر فطرانہ واجب ہے اور کس کو دیا جائے، اس کی تفصیل ہماری فطرانے کی مکمل رہنمائی میں ہے؛ اور فدیہ دینے کی شرائط کے لیے فدیے کی رہنمائی پڑھیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس سال فی کس فطرانہ کتنا ہے؟+

رمضان 1447 ہجری / 2026ء کے لیے پاکستان میں دار الافتاء (منہاج القرآن) نے یہ نرخ شائع کیے ہیں: گندم کا آٹا 310 روپے، جو 1,180 روپے، درمیانی کھجور 2,400 روپے، کشمش 4,800 روپے، پنیر 8,000 روپے اور اعلیٰ درجے کی کھجور 20,000 روپے فی کس۔ جنس اپنے معیارِ زندگی کے مطابق منتخب کریں، اور اگر اعلان کے بعد بازاری قیمتیں بدل گئی ہوں تو حساب سے پہلے رقم خود درست کر لیں۔

گندم 2 کلو اور باقی اجناس 4 کلو کیوں ہیں؟+

فقہ حنفی میں گندم نصف صاع دی جاتی ہے، جب کہ جو، کھجور، کشمش اور اسی طرح کی اجناس پورا ایک صاع دی جاتی ہیں۔ دار الافتاء نے اپنے اعلان میں گندم کے آٹے کے نصف صاع کو 2 کلو اور باقی کے پورے صاع کو 4 کلو مقرر کیا ہے؛ کیلکولیٹر میں ہر جنس کے ساتھ اس کا پیمانہ لکھا ہوتا ہے۔

تیس چھوٹے ہوئے روزوں کا فدیہ کتنا ہوگا؟+

ایک دن کا فدیہ ایک شخص کے فطرانے کے برابر ہے۔ گندم کے نرخ 310 روپے کے حساب سے تیس دن کا فدیہ 310 × 30 = 9,300 روپے بنتا ہے۔ اوپر فدیے والے حصے میں اپنے دنوں کی تعداد اور اپنے گھرانے کی جنس منتخب کر کے حساب لگائیں۔

روزے کے بدلے فدیہ کون دے سکتا ہے؟+

صرف وہ شخص جس کے لیے روزہ ہمیشہ کے لیے ممکن نہ رہا ہو — وہ انتہائی ضعیف بزرگ جن کی طاقت واپس نہ آئے، یا وہ دائمی بیماری جس میں شفا کی امید نہ ہو۔ ان کے علاوہ ہر ایک (مسافر، وہ مریض جس کے صحت یاب ہونے کی امید ہو، حیض یا حمل کی وجہ سے چھوڑنے والی خاتون) کو بعد میں قضا رکھنی ہوگی؛ ان کے لیے فدیہ قضا کا بدل نہیں۔

فطرانہ کب تک ادا کرنا چاہیے؟+

فطرانہ عید کے دن فجر سے واجب ہوتا ہے اور عید کی نماز سے پہلے مستحقین تک پہنچ جانا چاہیے تاکہ وہ بھی عید کی خوشی میں شریک ہوں۔ رمضان کے آخری دنوں میں دینا جائز اور عام ہے۔ اگر رہ جائے تو یہ ذمے سے ختم نہیں ہوتا؛ جس قدر جلد ہو ادا کر دینا چاہیے۔

ذرائع اور شرعی بنیاد

اس صفحے کے تمام حسابات فقہِ حنفی کے مطابق ہیں۔ نرخ اور نصاب دار الافتاء (منہاج القرآن) کے رمضان 1447 ہجری / 2026ء کے اعلان برائے پاکستان سے لیے گئے ہیں؛ قیمتیں بدلتی رہتی ہیں، اس لیے ہر رقم کا خانہ آپ خود تبدیل کر سکتے ہیں۔

یہ صرف حساب کی رہنمائی ہے، فتویٰ نہیں۔ حتمی تصدیق کے لیے مفتی یا دار الافتاء سے رجوع کریں۔ تفصیل کے لیے ہمارا طریقۂ کار اور ذرائع دیکھیں۔

تمام کیلکولیٹر