سونے کی زکاۃ کا کیلکولیٹر
اپنا سونا گرام یا تولے میں درج کریں اور آج کی قیمت لگائیں۔ کیلکولیٹر پہلے نصاب (87.48 گرام) کی جانچ کرے گا، پھر اڑھائی فیصد زکاۃ رقم اور وزن دونوں میں دکھائے گا۔
آج کی بازاری قیمت خود درج کریں — یہ مثال ہے، براہِ راست نرخ نہیں۔
وزن گرام میں
100 g
سونے کی کل قیمت
Rs 2,000,000
زکاۃ (2.5 فیصد)
Rs 50,000
آپ کا سونا نصاب (87.48 گرام = ساڑھے سات تولے) کو پہنچتا ہے، اس لیے زکاۃ واجب ہے۔ رقم کے بجائے سونا بذاتِ خود بھی دیا جا سکتا ہے: 2.5 گرام۔
طریقہ سادہ ہے
ایک تولہ = 11.664 گرام، اس لیے ساڑھے سات تولے کا نصاب 87.48 گرام بنتا ہے۔ وزن کو آج کی فی گرام قیمت سے ضرب دیں تو کل قیمت نکلتی ہے، اور اس کا اڑھائی فیصد (چالیسواں حصہ) آپ کی زکاۃ ہے۔ مکمل تصویر — نقدی اور چاندی سمیت — کے لیے مرکزی زکاۃ کیلکولیٹر استعمال کریں، اور پس منظر کے لیے نصاب کی رہنمائی پڑھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کتنے سونے پر زکاۃ فرض ہوتی ہے؟+
فقہ حنفی میں سونے کا نصاب 87.48 گرام ہے — ساڑھے سات تولے۔ اتنا یا اس سے زیادہ سونا پورے قمری سال آپ کے پاس رہے تو اس سب پر زکاۃ ہے؛ اس سے کم ہو (اور اس کے ساتھ مل کر نصاب بنانے والی کوئی اور چیز نہ ہو) تو صرف اس سونے پر زکاۃ نہیں بنتی۔
100 گرام سونے کی زکاۃ کتنی بنے گی؟+
زکاۃ سونے کی موجودہ قیمت کا اڑھائی فیصد ہے۔ فی گرام 20,000 روپے کے حساب سے 100 گرام کی قیمت 20,00,000 روپے اور زکاۃ 50,000 روپے بنتی ہے — یا سونے کی صورت میں ڈھائی گرام۔
کیا پہنے ہوئے سونے کے زیور پر بھی زکاۃ ہے؟+
جی ہاں — فقہ حنفی میں خاتون کا سونا قابلِ زکاۃ ہے، چاہے وہ روزمرہ پہنا جانے والا زیور ہو، رکھا ہوا زیور ہو، سکے ہوں یا بسکٹ/بار، بشرطیکہ نصاب کو پہنچے۔ اس مسئلے میں حنفی موقف مشہور ہے۔
کیا زکاۃ نقدی کے بجائے سونے کی صورت میں دی جا سکتی ہے؟+
جی ہاں۔ سونے کی زکاۃ اس کی قیمت کے اڑھائی فیصد کے برابر نقدی میں بھی دی جا سکتی ہے اور وزن کے حساب سے سونے کا اڑھائی فیصد بذاتِ خود بھی۔ کیلکولیٹر دونوں رقوم دکھاتا ہے۔
میرا سونا نصاب سے کم ہے مگر نقدی بھی ہے — پھر کیا ہوگا؟+
اثاثے مل کر شمار ہوتے ہیں۔ اگر آپ کا سونا، نقدی، چاندی اور مالِ تجارت ملا کر روپوں میں نصاب کو پہنچ جائے تو کل پر زکاۃ بنے گی۔ اس کے لیے مرکزی زکاۃ کیلکولیٹر استعمال کریں، جو نصاب کی جانچ سے پہلے سب کچھ جمع کرتا ہے۔
ذرائع اور شرعی بنیاد
اس صفحے کے تمام حسابات فقہِ حنفی کے مطابق ہیں۔ نرخ اور نصاب دار الافتاء (منہاج القرآن) کے رمضان 1447 ہجری / 2026ء کے اعلان برائے پاکستان سے لیے گئے ہیں؛ قیمتیں بدلتی رہتی ہیں، اس لیے ہر رقم کا خانہ آپ خود تبدیل کر سکتے ہیں۔
یہ صرف حساب کی رہنمائی ہے، فتویٰ نہیں۔ حتمی تصدیق کے لیے مفتی یا دار الافتاء سے رجوع کریں۔ تفصیل کے لیے ہمارا طریقۂ کار اور ذرائع دیکھیں۔
تمام کیلکولیٹر
فطرانہ و فدیہ کیلکولیٹر
پورے گھرانے کا صدقۂ فطر فی کس کے حساب سے، اور چھوٹے ہوئے روزوں کا فدیہ — دار الافتاء کے نرخوں پر، قیمتیں بدل گئی ہوں تو خود تبدیل کر لیں۔
زکاۃ کیلکولیٹر
نقدی، سونا، چاندی، مالِ تجارت اور وصول طلب رقوم، قرضے منہا کر کے — نصاب سے مقابلہ اور پھر اڑھائی فیصد کا حساب۔
ہجری تاریخ مبدل
کسی بھی عیسوی تاریخ کو ہجری میں اور ہجری کو عیسوی میں بدلیں — ام القریٰ کلینڈر کے مطابق، جو آپ کے فون میں استعمال ہوتا ہے۔
وراثت کیلکولیٹر
شوہر یا بیوی، بیٹوں، بیٹیوں، والد اور والدہ کے لیے حنفی فرائض کے حصے — ہر وارث کا حصہ فی کس اور کل رقم کے ساتھ۔