نصاب کیا ہے اور اپنی زکاۃ کا حساب کیسے لگائیں
فقہ حنفی کے مطابق نصاب کی وضاحت — 87.48 گرام سونا یا 612.36 گرام چاندی — اور زکاۃ کے حساب کا مرحلہ وار طریقہ۔
نصاب کسے کہتے ہیں؟
نصاب وہ کم سے کم مال ہے جس پر زکاۃ فرض ہوتی ہے۔ نصاب سے کم ہو تو زکاۃ نہیں؛ نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو اور اس پر پورا قمری سال گزر جائے تو زکاۃ پورے مال پر بنتی ہے، صرف نصاب سے اوپر والے حصے پر نہیں۔
فقہ حنفی میں نصاب سونے یا چاندی سے ناپا جاتا ہے: 87.48 گرام سونا (ساڑھے سات تولے) یا 612.36 گرام چاندی (ساڑھے باون تولے)۔ آج چاندی فی گرام کہیں سستی ہے، اس لیے چاندی کا نصاب روپے میں کم بنتا ہے — اور کم نصاب کو اختیار کرنا احتیاط بھی ہے اور غریبوں کے حق میں بہتر بھی، کیونکہ اس سے زیادہ صورتوں میں زکاۃ بنتی ہے اور مستحقین کو زیادہ ملتا ہے۔
روپوں میں نصاب کتنا ہے؟
روپوں کی یہ رقم دھاتوں کی قیمت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ دار الافتاء (منہاج القرآن) نے رمضان 1447 ہجری / 2026ء کے اپنے اعلان برائے پاکستان میں نصاب 5,04,105 روپے شائع کیا ہے۔ ہمارے زکاۃ کیلکولیٹر میں یہی رقم پہلے سے درج ہے، مگر یہ خانہ تبدیل کیا جا سکتا ہے: اگر آپ سال کے کسی اور وقت حساب لگا رہے ہوں تو موجودہ چاندی کی قیمت سے اسے تازہ کر لیں — 612.36 گرام چاندی ضرب آج کا فی گرام نرخ، یہی نصاب ہے۔
ایک بات واضح رہے: نصاب کوئی چھوٹ کی حد نہیں ہے۔ جیسے ہی آپ کا خالص مال اسے پار کرے اور سال گزر جائے، زکاۃ پورے مال کا اڑھائی فیصد بنتی ہے، صرف اوپر والے حصے کا نہیں۔
زکاۃ میں کون سا مال شمار ہوتا ہے؟
یہ چیزیں شمار کریں: نقدی ہاتھ میں اور بینک کھاتوں میں، سونا اور چاندی (آج کی قیمت پر)، فروخت کے لیے خریدا ہوا مال اس کی موجودہ فروخت قیمت پر، اور وہ رقوم جو دوسروں کے ذمے ہیں اور ملنے کی امید ہے۔ یہ سب ملا کر آپ کے قابلِ زکاۃ اثاثے ہیں۔
زندگی کا سامان شمار نہیں ہوتا: مکان، گاڑی، فرنیچر، کپڑے اور پیشے کے اوزار جتنے بھی قیمتی ہوں، ان پر زکاۃ نہیں۔ پھر اپنے قرضے اور فوری واجبات منہا کریں، کیونکہ زکاۃ اسی مال پر ہے جو ذمہ داریوں کے بعد واقعی آپ کا ہے۔
زکاۃ کا حساب مرحلہ وار کیسے لگائیں؟
پہلے: قابلِ زکاۃ اثاثے لکھ کر جمع کریں۔ دوسرا: قرضے اور فوری واجبات منہا کریں۔ تیسرا: نتیجے کا نصاب سے مقابلہ کریں — اس سے کم ہو تو اس سال زکاۃ نہیں۔ چوتھا: اگر نصاب سے زیادہ ہو اور اس مال پر قمری سال گزر چکا ہو تو خالص رقم کو اڑھائی فیصد (چالیسواں حصہ) سے ضرب دیں۔ مثال کے طور پر 10,00,000 روپے کے خالص مال کی زکاۃ ٹھیک 25,000 روپے بنتی ہے۔
ہمارا زکاۃ کیلکولیٹر بالکل یہی کرتا ہے اور ہر خانہ سامنے رکھتا ہے تاکہ آپ ہر سطر خود جانچ سکیں۔ اگر آپ کا بیشتر مال سونا ہو تو سونے کی زکاۃ کا کیلکولیٹر وزن اور قیمت سے آغاز کرتا ہے۔
زکاۃ کب دینا فرض ہوتی ہے؟
زکاۃ اس وقت فرض ہوتی ہے جب نصاب کو پہنچے ہوئے مال پر پورا قمری سال (حول) گزر جائے۔ اکثر لوگ ایک تاریخ مقرر کر لیتے ہیں — عموماً رمضان میں، اجر کی نیت سے — اور ہر سال اسی دن اپنے پورے مال کا حساب لگاتے ہیں؛ مال آتا جاتا رہے تو بھی سال کی شرط اس طرح صاف رہتی ہے۔
یہ رہنمائی حساب میں مدد کے لیے ہے، فتویٰ نہیں: غیر معمولی صورتوں — کاروباری شراکت، متنازعہ قرضے، سال کے درمیان ملی وراثت — میں کسی عدد پر عمل سے پہلے مفتی یا دار الافتاء سے رجوع کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں
- صدقۂ فطر (فطرانہ): کس پر واجب ہے، کب دیں اور مقدار کتنی ہے — فقہ حنفی کے مطابق فطرانے کی مکمل رہنمائی: کس پر واجب ہے، عید کی حد، اور رمضان 1447 میں فی کس مقدار۔
- چھوٹے ہوئے روزوں کا فدیہ: کون دے سکتا ہے اور کتنا ہے — فقہ حنفی کے مطابق فدیے کی وضاحت: روزے کے بدلے کون دے سکتا ہے، فی دن مقدار، اور فطرانے سے اس کا فرق۔
ذرائع اور شرعی بنیاد
اس صفحے کے تمام حسابات فقہِ حنفی کے مطابق ہیں۔ نرخ اور نصاب دار الافتاء (منہاج القرآن) کے رمضان 1447 ہجری / 2026ء کے اعلان برائے پاکستان سے لیے گئے ہیں؛ قیمتیں بدلتی رہتی ہیں، اس لیے ہر رقم کا خانہ آپ خود تبدیل کر سکتے ہیں۔
یہ صرف حساب کی رہنمائی ہے، فتویٰ نہیں۔ حتمی تصدیق کے لیے مفتی یا دار الافتاء سے رجوع کریں۔ تفصیل کے لیے ہمارا طریقۂ کار اور ذرائع دیکھیں۔