DeenCalc

زکاۃ کیلکولیٹر

اپنے تمام قابلِ زکاۃ اثاثے درج کریں، قرضے منہا کریں — کیلکولیٹر خالص مال کا نصاب سے مقابلہ کر کے اڑھائی فیصد زکاۃ نکال دے گا، یا صاف بتا دے گا کہ آپ نصاب سے کم ہیں۔

دار الافتاء، رمضان 1447 / 2026 — چاندی کے نصاب کے مطابق

کل اثاثے

Rs 1,000,000

خالص مال

Rs 1,000,000

آپ کی زکاۃ (2.5 فیصد)

Rs 25,000

آپ کا خالص مال نصاب (Rs 504,105) سے زیادہ ہے، اس لیے زکاۃ واجب ہے: خالص مال کا اڑھائی فیصد۔

کیا شمار ہوتا ہے اور کیا نہیں

شمار ہوتا ہے: نقدی اور بینک بیلنس، سونا چاندی آج کی قیمت پر، فروخت کے لیے رکھا مال، اور وصول ہونے والی رقوم۔ شمار نہیں ہوتا: رہائش کا مکان، گاڑی، فرنیچر اور ذاتی استعمال کی اشیا۔ قرضے اور فوری واجبات منہا ہوتے ہیں۔ نصاب کی پوری وضاحت اور مرحلہ وار طریقہ ہماری نصاب کی رہنمائی میں ہے۔ اگر آپ کا مال زیادہ تر سونا ہے تو سونے کی زکاۃ کا کیلکولیٹر استعمال کریں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

زکاۃ کا حساب کیسے لگایا جاتا ہے؟+

قابلِ زکاۃ اثاثے (نقدی، بینک بیلنس، سونا، چاندی، مالِ تجارت، وصول طلب رقوم) جمع کریں، قرضے منہا کریں، اور خالص رقم کا نصاب سے مقابلہ کریں۔ خالص مال نصاب کے برابر یا زیادہ ہو اور اس پر قمری سال گزر چکا ہو تو زکاۃ خالص رقم کا اڑھائی فیصد ہے — یعنی 10,00,000 روپے کے خالص مال کی زکاۃ ٹھیک 25,000 روپے بنتی ہے۔

اس وقت روپوں میں نصاب کتنا ہے؟+

دار الافتاء (منہاج القرآن) نے رمضان 1447 ہجری / 2026ء کے لیے 5,04,105 روپے شائع کیے ہیں، جو 612.36 گرام چاندی کے نصاب پر مبنی ہیں۔ دھاتوں کی قیمتیں بدلتی رہتی ہیں، اس لیے کیلکولیٹر میں نصاب کا خانہ تبدیل کیا جا سکتا ہے — سال کے کسی اور وقت حساب لگاتے ہوئے اسے موجودہ چاندی کی قیمت سے تازہ کر لیں۔

کیا مکان، گاڑی اور تنخواہ پر زکاۃ ہے؟+

آپ کا مکان، گاڑی، فرنیچر اور ذاتی استعمال کی چیزیں جتنی بھی قیمتی ہوں، ان پر زکاۃ نہیں۔ تنخواہ پر بھی آتے ہی زکاۃ نہیں لگتی — اصل چیز وہ بچت اور دوسرے قابلِ زکاۃ اثاثے ہیں جو آپ کی زکاۃ کی تاریخ پر آپ کے پاس موجود ہوں، جب نصاب کو پہنچے مال پر قمری سال گزر چکا ہو۔

کیا حساب سے پہلے قرضے منہا کیے جاتے ہیں؟+

جی ہاں۔ لوگوں کے قرضے اور فوری واجبات پہلے اثاثوں سے نکلتے ہیں؛ زکاۃ اسی پر بنتی ہے جو باقی بچے۔ طویل مدتی قرضوں کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں الگ بحث ہے — عام قرضوں سے آگے کی صورتوں میں مفتی سے رجوع کریں۔

کون سا نصاب استعمال کروں — سونے کا یا چاندی کا؟+

فقہ حنفی میں دونوں پیمانے درست ہیں؛ آج روپے میں چاندی کا نصاب کم ہے، اس لیے اس کے مطابق زیادہ لوگوں پر زکاۃ بنتی ہے اور مستحقین کو زیادہ ملتا ہے۔ DeenCalc کی پہلے سے درج رقم (اور دار الافتاء کی شائع کردہ) چاندی پر مبنی ہے۔ اگر آپ کے پاس صرف سونا ہو تو سونے کا الگ کیلکولیٹر 87.48 گرام کا نصاب لاگو کرتا ہے۔

ذرائع اور شرعی بنیاد

اس صفحے کے تمام حسابات فقہِ حنفی کے مطابق ہیں۔ نرخ اور نصاب دار الافتاء (منہاج القرآن) کے رمضان 1447 ہجری / 2026ء کے اعلان برائے پاکستان سے لیے گئے ہیں؛ قیمتیں بدلتی رہتی ہیں، اس لیے ہر رقم کا خانہ آپ خود تبدیل کر سکتے ہیں۔

یہ صرف حساب کی رہنمائی ہے، فتویٰ نہیں۔ حتمی تصدیق کے لیے مفتی یا دار الافتاء سے رجوع کریں۔ تفصیل کے لیے ہمارا طریقۂ کار اور ذرائع دیکھیں۔

تمام کیلکولیٹر