وراثت کیلکولیٹر (فرائض)
ترکے کی رقم اور ورثا درج کریں — ہر وارث کا شرعی حصہ کسر اور رقم دونوں صورتوں میں سامنے آ جائے گا۔ حساب فقہِ حنفی کے فرائض کے مطابق ہے اور عام ورثا (شریکِ حیات، بیٹے، بیٹیاں، والد، والدہ) کا احاطہ کرتا ہے۔
اہم تنبیہ: یہ کیلکولیٹر صرف اوپر درج عام ورثا کے لیے ہے۔ دادا دادی، والدین یا اولاد کے ساتھ بہن بھائی، پوتے پوتیاں، وصیت یا متنازعہ قرضوں جیسی صورتوں میں یہ حساب نہ لگائیں — مفتی یا دار الافتاء سے رجوع کریں۔ ترکہ وہ رقم ہے جو تجہیز و تکفین، قرضوں اور جائز وصیت کے بعد بچے۔
| وارث | حصہ | فیصد | فی کس رقم | کل رقم |
|---|---|---|---|---|
| بیوی / بیویاں | 1/8 | 12.50% | Rs 150,000 | Rs 150,000 |
| بیٹے | 7/12 | 58.33% | Rs 700,000 | Rs 700,000 |
| بیٹیاں | 7/24 | 29.17% | Rs 350,000 | Rs 350,000 |
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
حصے کیسے نکلتے ہیں؟ مثال دیں۔+
مثال کے طور پر ایک خاتون کا ترکہ 12,00,000 روپے ہو اور ورثا میں شوہر ہو تو بچوں کی موجودگی میں شوہر کا حصہ چوتھائی بنتا ہے۔ اور اگر مرحوم شوہر ہو اور ورثا بیوی، ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہوں: بیوی اپنا مقررہ آٹھواں حصہ لیتی ہے = 1,50,000 روپے؛ باقی 10,50,000 روپے اولاد کو بطورِ عصبہ ملتا ہے، بیٹے کو بیٹی کا دگنا — بیٹے کو 7,00,000 اور بیٹی کو 3,50,000 روپے۔ کیلکولیٹر میں یہی مثال پہلے سے درج ہے۔
یہ کیلکولیٹر کن ورثا کا احاطہ کرتا ہے؟+
عام بنیادی ورثا: شوہر یا بیویاں، بیٹے، بیٹیاں، والد اور والدہ — مقررہ حصے، عصبہ کے اصول، عول (حصوں کا ترکے سے بڑھ جانا) اور رد (بقیہ کا مقررہ حصے والوں کی طرف لوٹنا) سمیت۔ دادا دادی، والدین یا اولاد کے ساتھ بہن بھائی، پوتے پوتیاں اور دور کے رشتہ دار مزید قواعد کے تابع ہیں اور یہاں ان کا اندازہ لگانا دانستہ طور پر نہیں کیا گیا۔
ترکہ تقسیم ہونے سے پہلے کیا ادا ہوتا ہے؟+
پہلے تجہیز و تکفین کے اخراجات، پھر مرحوم کے قرضے، پھر جائز وصیت — جو ایک تہائی سے زیادہ نہیں ہو سکتی اور وارث کے حق میں نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد جو بچے، وہی وہ ترکہ ہے جسے یہ کیلکولیٹر تقسیم کرتا ہے۔
نتائج میں عول اور رد کا کیا مطلب ہے؟+
عول اس وقت لگتا ہے جب قرآنی مقررہ حصوں کا مجموعہ پورے ترکے سے بڑھ جائے — پھر ہر حصہ یکساں تناسب سے کم ہو جاتا ہے۔ رد اس کے الٹ ہے: بقیہ بچ جائے اور کوئی عصبہ نہ ہو، تو بقیہ مقررہ حصے والے ورثا (شریکِ حیات کے سوا) کی طرف ان کے حصوں کے تناسب سے لوٹ جاتا ہے۔ کیلکولیٹر جب کوئی اصول استعمال کرے تو اس کا نام بھی لکھ دیتا ہے۔
میرے خاندان کی صورت اس میں نہیں آتی — کیا کروں؟+
مکمل خاندانی صورتِ حال کے ساتھ مفتی یا دار الافتاء سے رجوع کریں۔ وراثت ان تفصیلات پر منحصر ہے جو یہ فارم نہیں پوچھتا — وصیت، قرضے، لاپتہ وارث، بطن میں بچہ، ایک ہی حادثے میں اموات — اور غلط تقسیم سنگین معاملہ ہے۔ یہ کیلکولیٹر صرف عام صورتوں کی رہنمائی ہے۔
ذرائع اور شرعی بنیاد
اس صفحے کے تمام حسابات فقہِ حنفی کے مطابق ہیں۔ نرخ اور نصاب دار الافتاء (منہاج القرآن) کے رمضان 1447 ہجری / 2026ء کے اعلان برائے پاکستان سے لیے گئے ہیں؛ قیمتیں بدلتی رہتی ہیں، اس لیے ہر رقم کا خانہ آپ خود تبدیل کر سکتے ہیں۔
وراثت کے فیصلے خاندان کی پوری صورت پر منحصر ہوتے ہیں؛ پیچیدہ صورت میں اس صفحے کا نتیجہ حتمی رہنمائی نہیں۔
یہ صرف حساب کی رہنمائی ہے، فتویٰ نہیں۔ حتمی تصدیق کے لیے مفتی یا دار الافتاء سے رجوع کریں۔ تفصیل کے لیے ہمارا طریقۂ کار اور ذرائع دیکھیں۔
تمام کیلکولیٹر
فطرانہ و فدیہ کیلکولیٹر
پورے گھرانے کا صدقۂ فطر فی کس کے حساب سے، اور چھوٹے ہوئے روزوں کا فدیہ — دار الافتاء کے نرخوں پر، قیمتیں بدل گئی ہوں تو خود تبدیل کر لیں۔
زکاۃ کیلکولیٹر
نقدی، سونا، چاندی، مالِ تجارت اور وصول طلب رقوم، قرضے منہا کر کے — نصاب سے مقابلہ اور پھر اڑھائی فیصد کا حساب۔
سونے کی زکاۃ کا کیلکولیٹر
اپنا سونا گرام یا تولے میں آج کی قیمت کے ساتھ درج کریں — دیکھیں نصاب 87.48 گرام کو پہنچتا ہے یا نہیں اور زکاۃ کتنی بنتی ہے۔
ہجری تاریخ مبدل
کسی بھی عیسوی تاریخ کو ہجری میں اور ہجری کو عیسوی میں بدلیں — ام القریٰ کلینڈر کے مطابق، جو آپ کے فون میں استعمال ہوتا ہے۔