13 جمادی الاولیٰ 1448 ہجری24 October 2026
DeenCalc

چاندی کی زکاۃ کا کیلکولیٹر

اپنی چاندی گرام یا تولے میں درج کریں اور آج کی قیمت لگائیں۔ کیلکولیٹر پہلے نصاب (612.36 گرام) کی جانچ کرے گا، پھر اڑھائی فیصد زکاۃ رقم اور وزن دونوں میں دکھائے گا۔

آج کی بازاری قیمت خود درج کریں — یہ مثال ہے، براہِ راست نرخ نہیں۔

وزن گرام میں

700 g

چاندی کی کل قیمت

Rs 210,000

زکاۃ (2.5 فیصد)

Rs 5,250

آپ کی چاندی نصاب (612.36 گرام = ساڑھے باون تولے) کو پہنچتی ہے، اس لیے زکاۃ واجب ہے۔ رقم کے بجائے چاندی بذاتِ خود بھی دی جا سکتی ہے: 17.5 گرام۔

طریقہ سادہ ہے

ایک تولہ = 11.664 گرام، اس لیے ساڑھے باون تولے کا نصاب 612.36 گرام بنتا ہے۔ وزن کو آج کی فی گرام قیمت سے ضرب دیں تو کل قیمت نکلتی ہے، اور اس کا اڑھائی فیصد (چالیسواں حصہ) آپ کی زکاۃ ہے۔ سونے کے لیے ہمارا سونے کی زکاۃ کا کیلکولیٹر ہے، اور مکمل تصویر — نقدی اور مالِ تجارت سمیت — کے لیے مرکزی زکاۃ کیلکولیٹر استعمال کریں۔ نصاب کی تفصیل ہماری نصاب کی رہنمائی میں ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کتنی چاندی پر زکاۃ فرض ہوتی ہے؟+

فقہ حنفی میں چاندی کا نصاب 612.36 گرام ہے — ساڑھے باون تولے۔ اتنی یا اس سے زیادہ چاندی پورے قمری سال آپ کے پاس رہے تو اس سب پر زکاۃ ہے؛ اس سے کم ہو (اور اس کے ساتھ مل کر نصاب بنانے والی کوئی اور چیز نہ ہو) تو صرف اس چاندی پر زکاۃ نہیں بنتی۔

700 گرام چاندی کی زکاۃ کتنی بنے گی؟+

زکاۃ چاندی کی موجودہ قیمت کا اڑھائی فیصد ہے۔ فی گرام 300 روپے کے حساب سے 700 گرام کی قیمت 2,10,000 روپے اور زکاۃ 5,250 روپے بنتی ہے — یا چاندی کی صورت میں ساڑھے سترہ گرام۔ کیلکولیٹر میں آج کی قیمت لگا کر خود جانچ لیں۔

کیا پہنی ہوئی چاندی کے زیور پر بھی زکاۃ ہے؟+

جی ہاں — فقہ حنفی میں آپ کی چاندی قابلِ زکاۃ ہے، چاہے وہ روزمرہ پہنا جانے والا زیور ہو، رکھا ہوا زیور ہو، سکے ہوں یا بار، بشرطیکہ نصاب کو پہنچے۔ سونے کے بارے میں بھی حنفی مسلک کا یہی موقف ہے۔

کیا زکاۃ نقدی کے بجائے چاندی کی صورت میں دی جا سکتی ہے؟+

کیلکولیٹر دونوں رقوم ساتھ ساتھ دکھاتا ہے: اڑھائی فیصد کی نقد قیمت، اور اس کے برابر چاندی کا وزن — تاکہ آپ کو ہر صورت کا حساب صاف نظر آئے۔

میری چاندی نصاب سے کم ہے مگر نقدی اور سونا بھی ہے — پھر کیا ہوگا؟+

اثاثے مل کر شمار ہوتے ہیں۔ اگر آپ کی چاندی، سونا، نقدی اور مالِ تجارت ملا کر روپوں میں نصاب کو پہنچ جائے تو کل پر زکاۃ بنے گی۔ اس کے لیے مرکزی زکاۃ کیلکولیٹر استعمال کریں، جو نصاب کی جانچ سے پہلے سب کچھ جمع کرتا ہے۔

ذرائع اور شرعی بنیاد

اس صفحے کے تمام حسابات فقہِ حنفی کے مطابق ہیں۔ نرخ اور نصاب دار الافتاء (منہاج القرآن) کے رمضان 1447 ہجری / 2026ء کے اعلان برائے پاکستان سے لیے گئے ہیں؛ قیمتیں بدلتی رہتی ہیں، اس لیے ہر رقم کا خانہ آپ خود تبدیل کر سکتے ہیں۔

یہ صرف حساب کی رہنمائی ہے، فتویٰ نہیں۔ حتمی تصدیق کے لیے مفتی یا دار الافتاء سے رجوع کریں۔ تفصیل کے لیے ہمارا طریقۂ کار اور ذرائع دیکھیں۔

تمام کیلکولیٹر

فطرانہ و فدیہ کیلکولیٹر

پورے گھرانے کا صدقۂ فطر فی کس کے حساب سے، اور چھوٹے ہوئے روزوں کا فدیہ — دار الافتاء کے نرخوں پر، قیمتیں بدل گئی ہوں تو خود تبدیل کر لیں۔

زکاۃ کیلکولیٹر

نقدی، سونا، چاندی، مالِ تجارت اور وصول طلب رقوم، قرضے منہا کر کے — نصاب سے مقابلہ اور پھر اڑھائی فیصد کا حساب۔

سونے کی زکاۃ کا کیلکولیٹر

اپنا سونا گرام یا تولے میں آج کی قیمت کے ساتھ درج کریں — دیکھیں نصاب 87.48 گرام کو پہنچتا ہے یا نہیں اور زکاۃ کتنی بنتی ہے۔

نقدی اور بچت کی زکاۃ کا کیلکولیٹر

ہاتھ کی نقدی، بینک کھاتے اور بچت، واجب الادا قرضے منہا کر کے — نصاب سے مقابلہ اور پھر اڑھائی فیصد کا حساب۔

کاروباری مال کی زکاۃ کا کیلکولیٹر

اسٹاک آج کی فروخت قیمت پر، کاروباری نقدی اور وصول طلب رقوم، کاروبار کے قرضے منہا کر کے — دکان اور تجارت کی زکاۃ۔

ہجری تاریخ مبدل

کسی بھی عیسوی تاریخ کو ہجری میں اور ہجری کو عیسوی میں بدلیں — ام القریٰ کلینڈر کے مطابق، جو آپ کے فون میں استعمال ہوتا ہے۔

وراثت کیلکولیٹر

شوہر یا بیوی، بیٹوں، بیٹیوں، والد اور والدہ کے لیے حنفی فرائض کے حصے — ہر وارث کا حصہ فی کس اور کل رقم کے ساتھ۔