14 جمادی الاولیٰ 1448 ہجری25 October 2026
DeenCalc

نقدی اور بچت کی زکاۃ کا کیلکولیٹر

ہاتھ کی نقدی، بینک کھاتے اور بچت — اگر آپ کا مال زیادہ تر رقم کی صورت میں ہے تو یہ صفحہ صرف اسی کا حساب دیتا ہے: قرضے منہا، نصاب سے مقابلہ، اور اڑھائی فیصد زکاۃ۔

دار الافتاء، رمضان 1447 / 2026 — چاندی کے نصاب کے مطابق

کل رقم

Rs 800,000

خالص رقم

Rs 800,000

آپ کی زکاۃ (2.5 فیصد)

Rs 20,000

آپ کی خالص رقم نصاب (Rs 504,105) کو پہنچتی ہے، اس لیے زکاۃ واجب ہے: خالص رقم کا اڑھائی فیصد۔

تنخواہ پر نہیں، بچت پر

زکاۃ آمدن پر نہیں لگتی؛ یہ اس مال پر لگتی ہے جو آپ کی زکاۃ کی تاریخ پر آپ کے پاس موجود ہو اور جس پر قمری سال گزر چکا ہو۔ اسی لیے طریقہ سادہ ہے: اس دن کی تمام نقدی اور بچت جمع کریں، واجب الادا قرضے منہا کریں، نصاب سے مقابلہ کریں۔ نصاب کیا ہے اور اس کی رقم کیسے نکلتی ہے، اس کی مکمل وضاحت ہماری نصاب کی رہنمائی میں ہے۔ سونا، چاندی یا کاروباری مال بھی ہو تو مرکزی زکاۃ کیلکولیٹر سب کچھ اکٹھا گنتا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

10,00,000 روپے کی بچت پر زکاۃ کتنی بنے گی؟+

اگر رقم نصاب کو پہنچ چکی ہو اور اس پر قمری سال گزر چکا ہو تو زکاۃ پوری خالص رقم کا اڑھائی فیصد ہے: 10,00,000 روپے کی زکاۃ ٹھیک 25,000 روپے بنتی ہے۔ بچت کے لیے کوئی الگ شرح نہیں — نقدی سب سے سادہ قابلِ زکاۃ اثاثہ ہے۔

کیا ہر مہینے تنخواہ پر زکاۃ دینی ہوتی ہے؟+

نہیں۔ تنخواہ آتے ہی اس پر زکاۃ نہیں لگتی۔ اصل چیز وہ رقم ہے جو آپ کی زکاۃ کی تاریخ پر آپ کے پاس موجود ہو — وہ بچت جو جمع ہو کر قمری سال بھر نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ رہی ہو۔ جو تنخواہ زندگی کے اخراجات میں خرچ ہو گئی، وہ قابلِ زکاۃ تھی ہی نہیں۔

زکاۃ کے لیے نقدی میں کیا کیا شمار ہوتا ہے؟+

ہاتھ میں موجود رقم، کرنٹ اور سیونگ کھاتوں کے بیلنس، بچت سرٹیفکیٹ اور ڈپازٹ ان کی موجودہ قیمت پر، اور موبائل والیٹ (مثلاً JazzCash اور Easypaisa) میں پڑی رقم۔ جو رقم آپ کی ملکیت ہو اور آپ کی پہنچ میں ہو، وہ نقدی شمار ہوتی ہے۔

کیا حساب سے پہلے بل اور قرضے منہا کیے جائیں؟+

جی ہاں۔ لوگوں کے قرضے اور فوری واجبات پہلے نکلتے ہیں؛ زکاۃ اسی پر بنتی ہے جو باقی بچے۔ انہیں اوپر قرضوں والے خانے میں درج کریں۔ طویل مدتی قرضوں کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں الگ بحث ہے — عام قرضوں سے آگے کی صورتوں میں مفتی سے رجوع کریں۔

زکاۃ کا حساب کس تاریخ پر لگاؤں؟+

اکثر لوگ ایک تاریخ مقرر کر لیتے ہیں — عموماً رمضان میں، اجر کی نیت سے — اور ہر سال اسی دن اپنے پورے مال کا حساب لگاتے ہیں؛ اس سے رقم آتی جاتی رہے تو بھی سال (حول) کی شرط صاف رہتی ہے۔ اگر آپ کے پاس سونا، چاندی یا مالِ تجارت بھی ہو تو مرکزی زکاۃ کیلکولیٹر استعمال کریں تاکہ سب کچھ اکٹھا شمار ہو۔

ذرائع اور شرعی بنیاد

اس صفحے کے تمام حسابات فقہِ حنفی کے مطابق ہیں۔ نرخ اور نصاب دار الافتاء (منہاج القرآن) کے رمضان 1447 ہجری / 2026ء کے اعلان برائے پاکستان سے لیے گئے ہیں؛ قیمتیں بدلتی رہتی ہیں، اس لیے ہر رقم کا خانہ آپ خود تبدیل کر سکتے ہیں۔

یہ صرف حساب کی رہنمائی ہے، فتویٰ نہیں۔ حتمی تصدیق کے لیے مفتی یا دار الافتاء سے رجوع کریں۔ تفصیل کے لیے ہمارا طریقۂ کار اور ذرائع دیکھیں۔

تمام کیلکولیٹر

فطرانہ و فدیہ کیلکولیٹر

پورے گھرانے کا صدقۂ فطر فی کس کے حساب سے، اور چھوٹے ہوئے روزوں کا فدیہ — دار الافتاء کے نرخوں پر، قیمتیں بدل گئی ہوں تو خود تبدیل کر لیں۔

زکاۃ کیلکولیٹر

نقدی، سونا، چاندی، مالِ تجارت اور وصول طلب رقوم، قرضے منہا کر کے — نصاب سے مقابلہ اور پھر اڑھائی فیصد کا حساب۔

سونے کی زکاۃ کا کیلکولیٹر

اپنا سونا گرام یا تولے میں آج کی قیمت کے ساتھ درج کریں — دیکھیں نصاب 87.48 گرام کو پہنچتا ہے یا نہیں اور زکاۃ کتنی بنتی ہے۔

چاندی کی زکاۃ کا کیلکولیٹر

اپنی چاندی گرام یا تولے میں آج کی قیمت کے ساتھ درج کریں — دیکھیں نصاب 612.36 گرام کو پہنچتی ہے یا نہیں اور زکاۃ کتنی بنتی ہے۔

کاروباری مال کی زکاۃ کا کیلکولیٹر

اسٹاک آج کی فروخت قیمت پر، کاروباری نقدی اور وصول طلب رقوم، کاروبار کے قرضے منہا کر کے — دکان اور تجارت کی زکاۃ۔

ہجری تاریخ مبدل

کسی بھی عیسوی تاریخ کو ہجری میں اور ہجری کو عیسوی میں بدلیں — ام القریٰ کلینڈر کے مطابق، جو آپ کے فون میں استعمال ہوتا ہے۔

وراثت کیلکولیٹر

شوہر یا بیوی، بیٹوں، بیٹیوں، والد اور والدہ کے لیے حنفی فرائض کے حصے — ہر وارث کا حصہ فی کس اور کل رقم کے ساتھ۔